د پوسټ مینځپانګه
✒️ مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ 13 اکتوبر 2025 شرم الشیخ میں غرہ کی جنگ بندی کے معاھدے پر دستخط ھوگئے اور بے اختیار بقول شاعر: دل خوش تو ھوگیا مگر آنسو نکل پڑے اول تو ان ستر ھزار شہداء کو یاد کرکے جنہوں نے اپنی موت کو گلے لگاکر فلسطین کو زندہ رکھا دوسرے یہ یاد کرکے کہ اس امن کاسہرا لاكهوں جانوں کے نقصان کے بعداسکے سر بندھ رہاہے جس نے قدس میں سفارت خانہ قائم کرکے اسے اسرائیل کا مرکز قرار دیا تھا اور دوسال تک غزہ کے قتل عام میں برابر کا شریک رھکر جنگ بندی کی ھر قرارداد کوویٹو کرتارھا تیسرے اس لئے کہ غزہ میں فی الحال الحمدللہ امن قائم ھوگیا مگر ھم اپنے گھر میں امن قائم نه کرسکے فلسطین کا جو مسئلہ حل ھونے لگا تھا اسکے بارے میں ایسے احتجاج اور توڑ پھوڑ کا کیا موقع تھا اور اگر کچھ لوگوں کو اس پر اصرار بھی تھا تو آخر وہ پاکستانی مسلمان تھے کیا حکومت کے لئے یہ ایسا مسئلہ تھا کہ اس پر قابو پانے کے لئے گولیاں چلاکر کئی خاندانوں کو اجاڑنا ضروری ھو چوتھے اس لئے کہ عین اس موقع پر جب بھارت پاکستان سے کھلی دشمنی پر آمادہ ہے اور پاکستان کے باغیوں کی حمایت کررہاہے اوراس سے مار بھی کھاچکا ہے ھمارے ایک پڑوسی بھائی نے قیام امن کے لئے پاکستان سے بات کرنے کے بجائے بھارت سے پینگیں پڑھانی شروع کردیں اور پھر دو مسلمان پڑوسیوں میں جنگ شروع ھوگئی جو امت اسلامیہ کے کسی بھی دردمند کے لئے تشویشناک خبر ہے کسیے گواہ کریں کس سے منصفی چاھیں ؟ join us @knowledge