Содержимое
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے عمومی مباحثے کے موقع پر روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کا خطاب اہم نکات: 80 سال قبل انسانی تاریخ کی سب سے ہولناک جنگ کا خاتمہ ہوا۔ 7 کروڑ سے زائد افراد جنگی اور جارحانہ کارروائیوں، بھوک اور بیماری کا شکار ہوئے۔ 1945 میں دنیا کی تاریخ ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔ ہم اُس برادرانہ یکجہتی کی یاد کو مقدس سمجھتے ہیں جو اُس وقت اتحادی اقوام کے ساتھ پروان چڑھی، جب ہم نے ظلم و جارحیت کی قوتوں کے مقابلے میں حق اور انصاف کے علم بردار بن کر شانہ بشانہ جدوجہد کی۔ ہماری تنظیم کے بانیانِ اوّلین کے منظور کردہ اصول اور منشور آج بھی عالمی تعاون کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔۔ ہم مساوات کے اصول کی غیر مشروط پاسداری کے پرعزم حامی ہیں۔ یہی وہ ضمانت ہے جس کے ذریعے تمام ممالک اپنی فوجی طاقت، آبادی، رقبے یا معیشت سے قطع نظر عالمی معاملات میں اپنا جائز مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ روس نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے عسکریت پسندوں کی جانب سے پُرامن اسرائیلی شہریوں پر حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ تاہم، جس طرح دہشت گردی کسی صورت قابلِ جواز نہیں، اسی طرح فلسطینی شہریوں کے بہیمانہ قتل کو بھی کسی دلیل سے درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ عربی زبان اسرائیل میں ممنوع نہیں، نہ ہی عرب ممالک یا ایران میں عبرانی پر کوئی پابندی ہے، لیکن یوکرین میں روسی زبان پر قدغن عائد کی گئی ہے۔ منشور کے آرٹیکل 1 میں یہ اصول واضح طور پر درج ہے کہ انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا احترام سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے، خواہ وہ نسل، جنس، زبان یا مذہب کی کسی بھی بنیاد پر کیوں نہ ہوں۔ اس سب کے باوجود یورپ خاموش ہے اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ روس کو 'اسٹریٹجک شکست' سے دوچار کیا جا سکتا ہے۔ کییف حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں روسی باشندوں اور روسی زبان بولنے والے افراد کے حقوق کی مکمل بحالی ناگزیر ہے۔ انہی بنیادوں پر ہم یوکرین کے لیے سلامتی کی ضمانتوں پر بات چیت کے لیے آمادہ ہیں۔ روس اور امریکہ پر عالمی معاملات کی خصوصی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے خطرات کے ابھرنے کو روکیں جو انسانیت کو ایک نئی جنگ میں جھونک سکتے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم اور بریکس آج ایسے اہم پلیٹ فارمز کے طور پر ابھر رہے ہیں جو عالمی جنوب اور مشرقی ممالک کے مابین اشتراک اور ہم آہنگی کو تقویت دیتے ہیں۔ نیٹو پہلے ہی یورپ میں عملی محدودیت کا شکار ہے اور اب اپنی توسیع بحرالکاہل، بحیرۂ جنوبی چین اور آبنائے تائیوان تک بڑھا رہا ہے، جس سے نہ صرف چین اور روس بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی سنگین خطرات جنم لے رہے ہیں اور آسیان کے ہمہ گیر علاقائی ڈھانچوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ مستقبل کی بات کرتے وقت ہمیں ماضی کے اسباق کو ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے، خصوصاً اس وقت جب یورپ میں نازی ازم ایک بار پھر سر اُٹھا رہا ہے اور عسکریت پسندی روس مخالف نعروں کے زیرِ سایہ تیزی سے پنپ رہی ہے۔ یہ صورتحال اس لیے مزید تشویشناک ہے کہ برسلز سمیت یورپی یونین اور نیٹو کے بعض دارالحکومتوں میں سیاسی شخصیات سنجیدگی سے تیسری عالمی جنگ کو ایک ممکنہ منظرنامہ قرار دے کر اس پر بحث کر رہی ہیں۔ ہم رکن ممالک اور سیکریٹریٹ کی قیادت سے پرزورمطالبہ کرتے ہیں کہ وہ منشور کے تمام اصولوں پر پوری دیانت داری کے ساتھ، بلا استثنا اور بلا امتیاز عمل کریں۔ اسی صورت میں اقوام متحدہ کے بانیان کا عظیم ورثہ محفوظ رہے گا اور اپنی معنویت برقرار رکھ سکے گا۔