TGTGInsightаналитика telegramLIVE / telegram public index
← Посольство России в Пакистане / Embassy of Russia in Pakistan
Посольство России в Пакистане / Embassy of Russia in Pakistan avatar

TGINSIGHT POST

Post #2106

@rusembpak

Посольство России в Пакистане / Embassy of Russia in Pakistan

Просмотры164Количество просмотров
Опубликован7 окт.07.10.2025, 17:39
Содержимое поста

Содержимое

ماسکو فارمیٹ کنسلٹیشنز برائے افغانستان کا مشترکہ اعلامیہ (ماسکو، 7 اکتوبر 2025) روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق 7 اکتوبر 2025 کو ماسکو میں افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ کنسلٹیشنز کا ساتواں اجلاس منعقد ہوا، جس میں افغانستان، بھارت، ایران، قازقستان، چین، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان کے خصوصی مندوبین اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ بیلاروس کے نمائندے بطورِ مہمان شریک ہوئے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ افغان وفد نے، وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں، اجلاس میں بطور رکن شرکت کی۔ اجلاس میں شریک ممالک نے افغانستان کو ایک آزاد، متحد اور پُرامن ریاست کے طور پر مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ فریقین نے افغانستان اور خطے کے ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے، سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے، اور صحت، زراعت، غربت کے خاتمے اور قدرتی آفات سے نمٹنے جیسے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کی ترقی پر زور دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کو علاقائی رابطہ کاری کے نظام میں فعال طور پر شامل کیا جانا چاہیے تاکہ وہ جلد از جلد خودمختار اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ شرکاء نے افغان عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ہنگامی امداد کے عمل کو تیز کرے، تاہم انسانی امداد کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی گئی۔ فریقین نے دوطرفہ اور کثیرالطرفی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ افغانستان کو ایسے جامع اقدامات کے نفاذ میں معاونت فراہم کی جائے جو قلیل مدت میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور اس کے تدارک کو یقینی بنائیں، تاکہ افغان سرزمین کسی پڑوسی ملک یا دیگر خطوں کے لیے سلامتی کا خطرہ نہ بنے۔ شرکاء نے واضح کیا کہ دہشت گردی افغانستان، خطے اور پوری دنیا کے امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے- فریقین نے علاقائی تعاون کے فریم ورکس کے مؤثر کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ممالک پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی اقتصادی بحالی اور مستقبل کی ترقی سے متعلق اپنے وعدے پورے کریں۔ اجلاس میں شریک ممالک نے افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں کسی بھی ملک کی جانب سے فوجی تنصیبات قائم کرنے کی کوششوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا، کیونکہ ایسے اقدامات علاقائی امن و استحکام کے مفادات کے منافی ہیں۔