Содержимое
روسی سفیر البرٹ خوریف کا روز ٹی وی کو انٹرویو اہم نکات روس اور پاکستان کے موجودہ تعلقات دوستانہ اور برابر کی شراکت داری پر مبنی ہیں، جو کسی بھی جغرافیائی و سیاسی دھڑے بندی سے آزاد ہیں۔ ہمارے مغربی "خیرخواہوں" کی توقعات کے برعکس، حالیہ برسوں میں ہونے والی بڑی جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں نے ہمارے دوطرفہ تعلقات کی مثبت پیش رفت کو متاثر نہیں کیا ہے۔ روس اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات میں کسی پوشیدہ ایجنڈے کی تلاش بے بنیاد ہے۔ ہمارے تعلقات بذات خود اہمیت کے حامل ہیں اور کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم پاکستان کے ساتھ مختلف چیلنجز اور خطرات سے نمٹنے، اسٹریٹجک استحکام کے فروغ اور اطلاعاتی تحفظ کے لیے قریبی تعاون کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ (یو این) اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) جیسے کثیرالجہتی فورمز پر ماسکو اور اسلام آباد روایتی طور پر یکساں مؤقف اختیار کرتے ہیں۔ ہم پاکستان کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی اور انسدادِ منشیات میں تعاون کو انتہائی سودمند اور مثبت قرار دیتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ماہرین کی سطح پر مستقل بنیادوں پر مکالمہ جاری ہے، جس کا ایک اہم حصہ مشترکہ ورکنگ گروپ ہے جو دہشت گردی اور دیگر جدید خطرات سے نمٹنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ روس اور پاکستان کے درمیان ثقافتی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، کیونکہ دونوں ممالک ایک دوسرے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ تعاون فنون، کھیل، تعلیم، نوجوانوں کے تبادلے اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں مسلسل فروغ پا رہا ہے۔ خصوصاً پاکستانی عوام کا روسی زبان سیکھنے کا جوش و خروش قابلِ تحسین ہے۔ ہم دوطرفہ اقتصادی تعاون کی ترقی میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے مثبت کردار کو سراہتے ہیں۔ ہم تجارتی حجم کے مزید اضافے اور ہمارے ممالک کے کاروباری حلقوں کے درمیان براہِ راست تعلقات کے مضبوط ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردی کے مسائل کا حل بنیادی طور پر انہی دو ممالک کو ہی تلاش کرنا ہوگا۔ اگر اسلام آباد اور کابل اسے مناسب سمجھیں تو روس دونوں کے درمیان اختلافات کے حل میں ثالث کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے، اور اس مقصد کے لیے ماسکو فارمیٹ ایک مفید پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔ مکمل انٹرویو اُردو میں یہاں دیکھیں: https://youtu.be/sQone9YAvys?si=UY2Vl96QuSf9nz36